چیختے چیخاتے شراب کے نشے میں دُھت کبھی ہنسنے لگ جانا نا تو اگلے ہی لمحے رونے لگ جانا کبھی قرآن کو اٹھا کر لہراتے ہوئےجذباتی ہو جانا تو کبھی ان کے ایک حکم پر لوگ بھائی بھائی کر اٹھتے۔
کہا جائے کہ سلمان خان سے پہلے اگر دبنگ کا چشمہ لگائے کوئی پھرتا تھا تو وہ یہی ہیں دل کے نازک اور دماغ کے سر پھرے۔
اپنی دورِ جوانی میں نہایت پرجوش ہوا کرتےتھے مگر عمر کے ساتھ ساتھ صداقت اور جذبہ بھی ڈھلتا رہا۔ اب پتہ نہیں۔۔۔ دعاوں کا اثر ہے کہ بد دعاؤں کا!

کہا جائے کہ زمین پر خدا بنے بیٹھے تھے تو غلط نہ ہوگا کہ ان کے ایک بار کہنے پر سارا شہر خاموش تماشائی بن کر ان کے جلوے دیکھتا تھا عمر کے ساتھ ساتھ جسم بھی بڑھتا رہا اور غرور و تکّبر بھی ساتھ ہی ان کی خدائی بھی سیکڑوں، ہزاروں اور لاکھوں ،کروڑوں تک ان کے مداح بڑھتے چلے گئے یا یوں کہیے کہ مرید ہوگئے

وقت بُرا پڑا تو مہاجر کو پھر ایک بار ہجرت کرکے لندن دوڑنا پڑا مگر اس بار ذرا خاموشی سے۔۔۔ کہ چپل بھی پیر میں تھی نہ تھی خیال ہی نہ رہا

ہسپتال کو آرام گاہ اور نائن زیرو کو شاہی دربار بنانے والے بھی یہی جناب تھےحقیقی اور متحدہ کے نام پر جب پارٹی کا بٹوارہ ہوا تبھی سن ۱۹۷۱ کے بعد شہر قائد میں ایک جنگ کا سماء پیش کیا جس کے جنرل بھی آپ جناب ہی تھے۔

اور آہستہ آہستہ ان کا نام، نام نہ رہا، برینڈ بن گیا جس کی مندرجہ ذیل صنعتیں سامنے آئیں: بھتہ مافیا، فطرے کی پرچیاں، قربانی کی کھالیں، بوری بند لاشیں، ٹارگٹ کلنگ اور غیر قانونی اسلحہ قبضے اور چائنا کٹنگ جیسی مشہور صنعتیں شامل ہیں۔

لیکن موصوف ابتداء سے ہی کبھی کسی شوشا، بھاری نفری اور سکیورٹی کے قائل نہ تھے۔ سارے شہرِ قائد میں ہونڈا ۵۰ پر الیکشن کی مہم چلاتے تھے۔ کمیز،پجامہ میں ملبوس اور واسکٹ پہنے۔لوگوں کے بیچ رہ کر بھی کام کیے۔

شہرِ قائد کی سب سے بڑی صفائی مہم بھی ان کی سرپرستی میں ہی چلی اور کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی اور جرائم بھی۔۔۔ مگر جیسے ہر عروج کو زوال ہے یوں ہی جناب اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے سائے تلے غدار قرار دے دیے گئے اور اب تنوں تنہا لندن کے ایک گھر میں چار دیواری میں اپنی آخری ہجرت کا انتظار کر رہے ہیں۔ جہاں تین بار ری۔ ہیب بھی جاچکے ہیں اور قتل کے الزام میں حراست میں بھی رہ چکے ہیں جناب اب صرف اسی بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ ان کے کارکُنان انہیں کچھ نہیں بتائے اور خود فیصلے کر لیتے ہیں۔

شکوہ تو خیر عوام کو بھی ان سے ہے کہ! جس نظریے سے یہ تنظیم وجود میں آئی تھی افسوس کے ساتھ وہ نظریہ بھتّے کی پرچیوں کے نیچے کہیں دب کے رہ گیا اور روشنیوں کا شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔

Pages: 1 2


Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started